نئی دہلی، 8 ستمبر (عبدالحلیم منصور/ایس او نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آزاد صحافی گؤری لنکیش کے قتل پر کانگریس اور کرناٹک حکومت کو آج کٹہرے میں کھڑا کیا اور وزیر اعلیٰ سدارمیا سے سوال کیا کہ محترمہ لنکیش کو مکمل سکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی گئی؟ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ٹی وی چینلوں اور میل ٹوڈے کی رپورٹوں کے مطابق مقتول گوری لنکیش کے بھائی اندرجیت لنکیش نے بتایا ہے کہ ان کی بہن نکسلیوں کو خودسپردگی کراکے انہیں مرکزی دھارے میں لانے کا کام کر رہی تھیں ۔ انہوں نے ایک نکسلی لیڈر نگراج کو مرکزی دھارے میں لایا بھی تھا، جس سے کٹر نکسلی ان سے بہت ناراض تھے ۔ مسٹر پرساد نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ سدارمیا سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا محترمہ گؤری لنکیش یہ کام ان کی حکومت کی رضامندی سے کر رہی تھیں؟ اگر یہ درست ہے تو پھر انہیں مناسب سکیورٹی کیوں نہیں دستیاب کرائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے گوری لنکیش کے قتل کے فورا بعد ہی یہ فیصلہ کیسے دے دیا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور دائیں بازو کی سازش کی وجہ سے ان کا قتل ہوا ہے ؟ وزیر اعلیٰ بتائیں کہ کیا وہ مسٹر گاندھی کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور اگر انہیں اس سے اتفاق ہے ، تو پھر ایس ٹی آئی کیا کرے گی؟انہوں نے کہا کہ صحافی کے قتل ہونے پر بی جے پی کی جانب سے مسٹر اننت کمار، مسٹر پرکاش جاوڈیکر اور خود انہوں نے مذمت کی ہے اور مسٹر راہل گاندھی کا تبصرہ بد نیتی پر مبنی ہے ۔ مسٹر روی شنکر پرساد نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے دانشوروں کے خیالات بھی سیاست سے متاثر نظر آرہے ہیں۔ ان کے دوہرے معیار کی بھی مذمت کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ مقتول مصنف ایم کلبرگی کے قاتلوں کو اب تک پکڑا کیوں نہیں گیا ؟ کرناٹک میں کانگریس حکومت ہے ۔ وہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن آج تک کوئی ملزم پکڑا کیوں نہیں گیا؟ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر سیاست نہیں ہونی چاہئے ، جو غلط ہے ، وہ غلط ہے ۔ وہ وزیر اعلیٰ سے توقع کریں گے کہ سیاست کی بجائے کرناٹک حکومت ایمانداری سے جانچ کرے گی اور قاتلوں کو پکڑے گی۔ واضح رہے کہ کانگریس کے نائب صدراہل گاندھی نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریہ کے خلاف آواز اٹھانے والے ہر شخص کو دبایا جاتا ہے ، یا حملہ کیا جاتا ہے اور مار ا پیٹا جاتا ہے ، یا پھر قتل کردیا جاتا ہے ۔